ایک جذباتی اور سچی کہانی

ٹونٹی فور سیون ڈیلی نیوز پوائنٹ! آج کی یہ ایک کہانی سنیں ڈاکڑ کے زبانی میں ڈاکڑ احتشام سکندر ہوں۔ اور ارشاد احمد کا بیٹا ہوں جسکو گاؤں کے سب چوہدری شیدا کہتے تھے میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے انکو بے حد پیارا تھا۔ باقی سارا گاؤں میری غربت کی وجہ سے مجھ سے

دور رہتا تھا۔ مگر میرے والدین کی طرف سے مجھے اتنی محبت ملتی تھی کہ دوسروں کی لاکھ نفرت کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ جب میری عمر گیارہ سال ہوئی اور سکول پڑھتا تھا تو ایک دن ٹھنڈ کی وجہ سے بخار ہوگیا مجھے بخار کی حالت میں دیکھ کر میری ماں کے حلق سے نوالا نہیں اتر رہا تھا۔ میری ماں مجھے شہر لے جانے کیلئے تیار کرنے لگی میرے والد کی جرسی جسے سات جگہ سے چوہے کتر چکے تھے وہ پہنائی اور اپر میرا نیا سویٹر پہنایا اور اوپر اپنی گرم چادر کردی۔ اور مجھے لے کر تانگے میں بیٹھی اور ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور دوا لی اور واپسی کیلئے روڈ کنارے کھڑے تانگے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک سے تیز بارش ہونے لگی میری مان نے مجھے ٹھنڈ سے بچانے کیلئے ہمسایوں سے مانگ کر لایا ہوا کوٹ جو خود پہنا ہوا تھا وہ بھی مجھ کو پہنا دیا اور جب بارش بھر بھی نہ رکی تو میری ماں نے اپنا ڈوپٹہ بھی مجھ پر کر دیا۔ وہ مکمل طور پر بھیگ چکی تھی تب سفر تانگوں پر ہوتا تھا اور خراب موسم میں سواری کا ملنا مشکل تھا اور جب بارش نے بھی رکنے کا نام نہ لیا اور کوئی سواری بھی ناملی تو میری مان نے مجھے زمین پر بیٹھا کر ایسے چھپا لیا جیسے مرغی اپنے چوزوں کو چھپاتی ہے میری ماں نے میری خاطر سردیوں کی وہ رات صرف

ایک قمیض میں کھلے آسمان کے نیچے گزارا جب بارش کافی دیر بعد رکی تو میری ماں کبھی مجھے اٹھاتی کبھی چلنے کو کہتی یوں میری ماں مجھے لے کر گھر پہنچی جب میرے والد نے میری ماں کی یہ حالت دیکھی تو گھبرا گیا لیکن میری ماں نے اسے تسلی دی اپنے اور میرے کپڑے بدلے اور مجھے دوا پلا کر کہنے لگی کہ میں کہیں سے تمہارے لیے انڈا مانگ کر لاتی ہوں میری ماں ابھی انڈا لانے کیلئے دروازے میں نہیں پہنچی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی کہ چوہدری فضل کے کامے نے میری ماں کو چوہدری فضل کا پیغام دیتے ہوئے کہا چوہدری صاحب کے گھر کی چھت بارش کی وجہ سے ٹپک پڑھی ہے آکر چھت پر مٹی چڑھاؤ اور آکر مٹی کا لیپ دو۔ جب میرے والد صاحب نے یہ پیغام سنا تو یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ میری بیوی ابھی بارش میں بھیگ کر گھر پہنچی ہے اس لیے نہیں آسکتی چوہدری صاحب سے کہنا کہ صبح ہم مٹی چھت پر چڑھا دینگے۔ چوہدری فضل کا پیغام لانے والا واپس چلا گیا اور میری ماں انڈے لینے چلی گئی اچانک چوہدری فضل کے کچھ لوگ آئے اور اچانک میرے باپ کو مارتے یوئے لے گئے جب گلی میں میری ماں نے میرے باپ کی یہ حالت دیکھی تو وہ بھی چوہدری فجل کے ملازمین سے دھکے کھاتے ہوئے چوہدری فضل کے گھر جا پہنچی چوہدری فضل کو مجبوری بتانے کے باوجود

میرے مان باپ پر کوئی فضل نہ ہوا بلکہ انکو مٹی چڑھانے کیلئے چھت پر بھیج دیا اور برستی بارش میں میرے والدین نے چوہدری فضل کی چھت پر چڑھائی اور جب فارغ ہوئے تو چوہدری فضل نے میرے والدین کو بارش میں کھڑے ہونے کی سزا سنا دی۔ اور ایک گھنٹے کے بعد معافی دی لیکن صبح میری ماں کی طبیعت کافی خراب ہوچکی تھی۔ اور چوہدری نے بھی سب گاؤں والوں سے کہہ کر ہمارا بائیکاٹ کرا دیا ۔ میرے والد نے شہر جا کر ڈاکٹر کی ہزار منتیں کیں لیکن وہ میری ماں کو دیکھنے کیلئے گھر نہ آیا۔ خراب موسم اور لوگوں کی مدد کرنے سے انکار کی وجہ سے ماں کو شہر ڈاکڈر کے پاس لانہ بھی مشکل تھا میری ماں ساری رات بیماری کی حالت میں تڑپتی رہی اور صبح ہونے کے وقت فوت ہوگئی۔ چوہدری کی دو گھنٹے منت کے بعد میری ماں کو دفنانے اور جنازے کی اجازت ملی ۔ دفنانے کے بعد گاؤں کے لوگوں کا پہلے کی طرح بائیکاٹ شروع ہوگیا اور میرے والد پر الزام لگا کر مجھے اور میرے والد کو گھر سے نکال دیا ۔ ہم لوگ شہر آگئے اور میرے والد دن پر چھوٹا سا ٹاٹ رکھ کر میرا باپ جوتے سیتا اور رات کو ہم اسی ٹاٹ پر سوجاتے ۔ مجھے ایک بار پھر میرے باپ نے سکول داخل کروا دیا۔ اور میں سکول سے واپس آکر اپنے باپ کے ساتھ
اسی ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتا اور جب بھی کوئی پڑھا لکھا شخص آتا تو میرا باپ اسے کیتا کہ آپ میرے بیٹھے کو پڑھا دیں تو سب سے پہلے میں آپ کا کام کر دونگا اور اس طرح میں نے تعلیم حاصل کی۔مرے باپ کا کاروبار بڑھتا بڑھتا دوکان کی شکل اختیار کر گیا اور اللہ کے فضل سے میرا میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کیلئے داخلا ہوگیا اور میرے باپ نے ذاتی دوکان خرید لی اور ملازم بھی رکھ لیے اورخود جوتے تیار کرنے لگا اور جب میں ایم بی بی ایس کے آخری سال میں تھا تو میرے والد ارشاد کا انتقال ہوگیا میرے والد کی موت سے مجھے بہت دھچکا لگا خیر اب اس دنیا میں میرا کوئی خونی رشتہ نہیں رہا مین سکالر شپ پر لندن میں دل کے امراض کا اسپیشل لسٹ بننے کیلئے چلا گیا وہاں بھی الحمداللہ میں پوزیشن ہولڈر رہا مجھے وہیں کی گورنمنٹ کی طرف سے ملازمت اور بہت ساری سہولتوں کی آفر ہوئی جو کہ میں نے قبول کر لی ۔ایک بار پھر پاکستان آیا اور اپنی پھوپھی زاد بیٹی سے شادی کرلی کیونکہ میری والدہ کی خواہش تھی شادی کے بعد میں اور میری بیوی دونوں لندن شفٹ ہوگئے۔ چند دن پہلے میری بیوی کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو میں اور میری بیوی پاکستان آگئے میرے ایک دوست نے پرائیویٹ ہاسپٹل بنا رکھا تھا اور اس نے مجھے ہاسپٹل دیکھنے اور کھانے کی دعوت دی جو

>
میں نے قبول کرلی کھانے سے پہلے ایک ایمرجنسی کیس آیا ایک بزرگ کو ہارٹ اٹیک آیا تھا انکی رپورٹس دیکھ کر پتہ چلا کہ انکا آپریشن لازمی ہے ہاسپٹل میں کام کرنے والے ماہر ڈاکڑز کو بھی بولایا گیا اور مجھے بھی مدد کی درخواست کی گئی اور جب میں آپریشن تھریڑ میں پہنچا تو وہ چہرا اتنے سال بعد بھی مجھے آج بھی یاد تھا وہ چوہدری فضل تھا لاکھ غصہ اور شکوئے اور تکلیف کے باوجود بھی میں نے اپنے پیشے سے غداری نہیں کی اور اپنی پوری کوشش کرکے چوہدری کی جان بچا لی اور کمرے سے باہر آگیا اور بغیر کھانا کھائے وہاں سے چلا گیا میرے دوست کے لاکھ پوچھنے پر بھی میں نے اسے کچھ نہ بتایا اور دوسرے دن اپنے آبائی گاؤں گیا اور سب کو بتایا کہ میں ارشاد کا بیٹا ہوں اور وہاں پر سب غرہبوں کی مدد کی اور گاؤں میں ایک سکول اور ہسپتال بنوانے کا بھی وعدہ کیا اور چند غریبوں کو گھر بھی بنوا کے دینے کا وعدہ بھی کیا اور خود چوہدری کی طبیعت کا پتہ کرنے گیا اور پھت لندن واپس آگیا اور میری طرف سے ہسپتال میں یہ نوٹس چسپا ہے کہ جو مریض ہسپتال آنے کے قابل نہیں میں گھر آکر انکا علاج کروںگا۔ لیکن یہاں پر لوگ ہسپتال آجاتے ہیں کیونکہ یہاں پر کوئی پنجایت نہیں ہوتی اور یہاں پر کوئی انسان خدا بن کر دوسرے انسانوں کی زندگی نہیں چھنتا

Sharing is caring!

اپنا تبصرہ بھیجیں