Breaking News

تہلکہ خیز انکشاف : عمران خان پی ٹی وی کی وجہ سے سیاست میں آئے ۔۔۔ کالم نگار مظہر عباس نے 1995 میں عمران خان کے ساتھ پیش آنے والا حیران کن واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے ایک بار محترمہ سے پوچھا، ’’بی بی، کیا آپ PTVدیکھتی ہیں‘‘ بولیں، ’’نہیں، وہ تو اپنا ہی ہے‘‘۔ یہی حال اِس ادارے کا میاں صاحب کے دور میں بھی رہا۔عمران خان صاحب کے سیاست میں آنے کی ایک وجہ PTVبھی ہے۔ یہ 1995کی بات ہے۔ خان صاحب شوکت خانم اسپتال کے

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلسلے میں ٹائم چاہتے تھے۔ جواب ملا ’’اوپر سے منع ہے‘‘۔ وہ وزیراعظم سے ملنے گئے۔ محترمہ سے تو ملاقات نہیں ہوئی البتہ آصف زرداری سے ملنا پڑا۔ بس پھر کیا تھا، خان صاحب نے فیصلہ کرلیا کہ سیاست میں آئیں گے اور PTVکو BBCبنائیں گے۔ اب وہ وزیراعظم ہیں اور PTV ’’سب اچھا‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ رہ گئی بات سابق وزیر خزانہ کی تو ملک کے اندر تو ان کی JIT نہ ہوسکی اور وہ فرار ہوگئے مگر جو کچھ BBCکے ’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں ہوگیا، وہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ صحافت میں انٹرویو لینے سے پہلے اچھا اینکر پوری طرح تیارہوتا ہے اپنے مہمان کے بارے میں۔ اسی طرح جواب دینے والے کو بھی پتا ہونا چاہئے کہ ممکنہ سوالات کیا ہوسکتے ہیں۔ ڈار صاحب کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ ’’ایمپائر‘‘ صرف یہاں ہوتے ہیں وہاں تو صرف کرکٹ میں ایمپائر کا تصور ہے، سیاست میں نہیں۔حال ہی میں وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز صاحب کا فون آیا۔ بات صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے نئے قانون پر ہوئی۔ وہ چاہتے تھے کہ صحافی کی صحیح تعریف معلوم کریں کیونکہ ان کے بقول یہاں تو ہر شخص ’’صحافی‘‘ بن گیا ہے۔ میں نے کہا، ’’شبلی صاحب، PIDاور صوبائی انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی لسٹ منگوالیں، ڈمی اخبارات اور وزارت کے ماتحت چلنے والے اداروں کا جائزہ لے لیں کیونکہ بہتری گھر سے شروع کرنی چاہئے‘‘۔ بہرحال صحافی اور میڈیا ورکرز کے حوالے سے ڈرافٹ پر خاصی حد تک اتفاق ہے مگر صحافیوں کا تحفظ پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ یہاں کچھ ادارے قانون سے بالاتر ہیں۔

ڈار صاحب کے ساتھ ایک ’’ہارڈ ٹاک‘‘ کیا ہوئی، BBCہمارے PTIدوستوں کے لئے صحافت کا اعلیٰ معیار قرار پایا۔ ہم تو ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ PTVکو BBCبنائو۔ اب ان دوستوں کو کون بتائے کہ یہ پاکستان کے صحافی ہیں جنہوں نے 80اور 90کی دہائی میں سب سے پہلے حکمرانوں کی چوری کو بے نقاب کیا جو بنیاد بنا عمران خان کے چوری مخالف بیانیہ کی۔ مگر اب تھوڑی ’’ہارڈ ٹاک‘‘ موجودہ دور کے اسکینڈل پر کی جارہی ہے تو اچھے اور برے صحافیوں کی فہرست جاری ہو رہی ہے۔ خیر ہمارے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ یہاں جب ’’ہارڈ ٹاک‘‘ ہوتی ہے تو صحافی یا تو لاپتا ہوجاتا ہے اور واپسی پر ’’ٹاک‘‘ کے قابل بھی نہیں رہتا یا مار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 125صحافی 9/11 کے بعد سے جان سے گئے ہیں۔ ہمیں تو اسحاق ڈار کا ٹاک شو دکھانے کی بھی اجازت نہیں۔ اب اجازت ہوتو ہارڈ ٹاک نہ سہی کچھ ’’سوفٹ ٹاک‘‘ ہوجائے۔ سیاست دان اور حکمران تو اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں اور جو ملک سے بھاگ جائے اس کا بیانیہ کمزور ہوجاتا ہے۔ مگر یہ تو مجھے پوچھنے کا حق ہے کہ 1971میں اس ملک کے حکمران کو قومی اعزاز کے ساتھ کیوں دفنایا گیا؟ ’’ملک توڑنا‘‘ کیا اعزاز کی بات تھی؟ اس سوال کا جواب میں کس سے لوں کہ APSکے واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث احسان اللہ احسان کیسے سخت ترین حصار سے فرار ہوگیا؟ دو مئی 2011کو امریکی فوجی آئے اور واردات ڈال گئے اور ہمیں آج تک اس کمیشن کی رپورٹ کا اسی طرح انتظار ہے جس طرح اوجڑی کیمپ کی رپورٹ کا۔ ہر چیز ملکی اور قومی مفاد کے نام پر ’’بند‘‘ کردی جاتی ہے۔سچ ہے تنقید برداشت نہیں ہوتی۔ جس ملک میں یا تو اعلیٰ عدلیہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت فیصلے دیتی رہی ہو یا دو چیف جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس سعید الزماں صدیقی کو اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ ہو وہاں کیا ’’ہارڈ ٹاک‘‘ ہوگی؟

Sharing is caring!

About admin

Check Also

دس دن میں کشمش کے چند دانوں کا استعمال ہمارے طریقے سے کریں ، زندگی میں بہاری لوٹ آئیں گی

این این ایس نیوز! کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور …