والدین کی 10 غلطیاں جس سے بچے بڑے ہو کر غربت اور معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں

والدین کی 10 غلطیاں جس سے بچے بڑے ہو کر غربت اور معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں

والدین کی تربیت بچوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے اسی لیے والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کے بچے کُچھ ایسا کر جائیں جس سے اُن کا مستقبل بن جائے اور اس کام کے لیے وہ کئی حربے استعمال کرتے ہیں تاکہ اُن کے بچوں کو مستقبل میں کوئی پریشانی نہ ہو۔

آج کی ماڈرن دُنیا پہلے جیسی نہیں رہی اور بچوں کی تربیت کے پُرانے اصول آج کی دُنیا میں کارگر نہیں ہو رہے اسی لیے اس آرٹیکل میں ہم دور جدید کے بچوں کی نفسیات کے ماہرین کے بتائے ہُوئے چند ایسے طریقے ذکر کر رہے ہیں جو موجودہ دور کے بچوں کو بہتر مستقبل حاصل کرنے میں مددگار ہوں گے۔

نمبر 1 بچوں کو مستقبل چُننے کے لیے مجبور نہ کریں
عام طور پر والدین بچوں کو ڈاکٹر اور انجینیر وغیرہ بنانا چاہتے ہیں اور وہ اُنہیں بچپن سے ان پیشوں کی طرف راغب کرتے ہیں لیکن جدید دُنیا کے کئی پیشے ایسے ہیں جن کا 10 سال پہلے کوئی وجود نہیں تھا اور جن لوگوں نے انہیں اختیار کیا اب وہ دُنیا کے ترقی یافتہ ترین افراد میں شامل ہیں۔

کسی بچے کا اگر کمپیوٹر اور موبائل پروگرامز میں زیادہ دھیان جاتا ہے لیکن والدین چاہتے ہیں کہ وہ کُچھ اور بنے تو عین ممکن ہے کہ وہ مستقبل کے ایک اچھے کمپیوٹر پروگرامر کو اپنے پُرانے خیالات کی وجہ سے پروان نہ چڑھنے دیں۔

نمبر 2 بچوں کو کوئی غلطی نہ کرنے دینا
والدین چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے تہذیب یافتہ ترین ہوں اور کوئی غلطی نہ کریں اور بچوں کے بڑے ہونے کیساتھ ساتھ والدین کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے، صُبح اُٹھ کر بستر صاف نہیں کیا، پڑھائی میں دھیان کم ہے، دوستوں کیساتھ پھرتا رہتا ہے وغیرہ جیسی ڈانٹ تقریباً سب کو ہی پڑ جاتی ہے لیکن ڈانٹ کھا کر کام کرنے والے بچے احساس کمتری کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کوچھوٹی غلطیوں پر ڈانٹنے کی بجائے اُنہیں غلطی کو ڈانٹ کے بغیر سُدھارنے کی تربیت دیں اور اُنہیں بتائیں کہ غلطی تو سب ہی کرتے ہیں لیکن اچھا انسان وہی بنتا ہے جو اپنی غلطی کو پہچان کر اُسے درست کرلے۔

نمبر 3 پیسے جمع کرنے کی تربیت
بچوں کو پیسا جمع کرنے کی تربیت دینا اچھی بات ہے اسکے لیے والدین خوبصورت غلے وغیرہ خریدتے ہیں اور بچے کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اُس میں اپنی پاکٹ منی جمع کرے اور پیسے بلکل ضائع مت کرے لیکن دور جدید میں بہتر قابلیت حاصل کرنے کے لیے کُچھ چیزیں ایسی ہیں جنکا پیسے جمع کرنے کی بجائے خرید لینا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

نمبر 4 بچوں کے جذبات
چھوٹی موٹی چوٹ پر بچے کو ایسے سہلانا جیسے واقعی اُسے بڑی چوٹ لگی ہے والدین کا ایک طرز عمل ہے اور اس طریقے سے وہ چاہتے ہوتے ہیں کہ بچے کے جذبات مجروح نہ ہوں لیکن ماڈرن دُنیا میں وہی کامیاب ہے جو جذبات، احساسات وغیرہ کی ٹھیک پہچان کرتا ہے اور بہتر طریقے سے انتظامی امور پر مہارت رکھتا ہے۔

عُمیر 38 سال کا ہو گیا ہے اور اُس کے والدین نے ہمیشہ اُس کے ناز نخرے اُٹھائے ہیں لیکن عُمیر کو ایک واقعہ ہمیشہ جذباتی کر دیتا ہے کہ کیسے اُس کے والد نے اُس کی ایکسٹرا سائیکل پڑوسی کے بچے کو دیکر اُسکا دل توڑ دیا تھا۔

بچے کو جذبات اور احساسات کی پہچان کروائیں اور اتنا لاڈ نہ لڈائیں کے اُس میں عُمیر جیسے جذبات پیدا ہوں۔

نمبر 5 بچے کے لیے کھڑے ہونا
ہر بچے کو اس بات کا دل سے احساس ہونا چاہیے کہ اُس کے والدین کسی بھی معاملے میں منصفانہ رویہ نہیں چھوڑیں گے چاہے وہ اُستاد کی شکایت ہو، پڑوسی کی شکایت ہو یا کسی رشتہ دار کی جس میں بچہ بے قصور ہو تو والدین کو بچے کیساتھ کھڑے ہونا ضروری ہے اور اگر بچے کی غلطی ہے تو پیار سے اُس کے اندر اتنی طاقت پیدا کریں کہ وہ اپنی غلطی کو قبول کرے اور سُدھارنے کی ذمہ داری لے۔

نمبر 6 کامیاب لوگوں کی مثال دینا
ہر دور میں ترقی یافتہ اور کامیاب افراد جنہیں لوگ اپنا ہیرو بناتے ہیں اور اُن کے نقش قدم پر چلتے ہیں بدلتے رہتے ہیں اور آج کے جدید دور میں ایسے بیشمار افراد ہیں جنکی مثال بڑے چھوٹوں کو دیتے ہیں کہ ان کے نقش قدم پر چلو تاکہ تُم کامیاب ہو سکو۔

ناصر کو کمپیوٹر سے بہت پیار تھا وہ اپنا سارا وقت کمپیوٹر پر گُزارتا تھا پھر اُسکے ابا نے اُسے ایپل کمپنی کے بانی سٹیوجابز کی زندگی کی کہانی سُنائی جسکے بعد ناصر نے ایپل کے متعلق ہر معلومات اکھٹی کرنی شروع کر دی اور گریجویشن کرنے کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ اُسے ماسٹرز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سٹیوجابز نے تعلیم کے بغیر کامیابی حاصل کی تھی، آجکل ناصر یُو پی ایس بناتا ہے اور لوڈ شیڈینگ نہ ہونے کی وجہ سے اُسکا بزنس ٹھنڈا مٹھا ہے۔

نمبر 7 تُم پڑھائی پر توجہ دو
بچوں پر ایک عُمر آتی ہے جب وہ اپنے والدین کی پریشانی کو نوٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جب وہ انہیں اکثر غُصے میں اور پریشان دیکھتے ہیں تو یہ وقت ہوتا ہے اُن کے بچے سے بڑا ہونے کا اور وہ دیکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ بڑوں کی زندگی کیسی ہے، ایسے موقع پر بچے کی اچھی تربیت اُسے والدین کے لیے چٹان جیسا سہارا بنا دیتی ہے اور غلط تربیت سے وہ بڑوں کی سخت محنت سے خوفزدہ ہوجاتا ہے اور چاہتا ہے کہ بچپن کبھی ختم نہ ہو۔

بچوں کو حقیقی زندگی اور تصوری زندگی کے فرق کی پہچان کروانہ والدین کی ذمہ داری ہے، بچوں کو پتہ ہونا چاہیے کے سپائیڈر مین ایک تصوراتی کرادار ہے اور حقیقی کردار محنت سے تشکیل پاتا ہے۔

نمبر 8 احساس کمتری
سُمیرا کے ماں باپ کی آپس میں اکثر تکرار ہوتی تھی اور اُسے اس تکرار میں ماں کی باتیں یاد ہو چُکی تھی جو وہ سُمیرا کے باپ سے کرتی تھی، “پُھوپھو کی فیملی اُن سے زیادہ امیر ہے، فلاں اُن سے بہتر ہیں، فلاں کے پاس فلاں گاڑی ہے” اور شادی بیاہ وغیرہ پر تو مہنگا لباس لینے کے لیے ماں کا باپ سے ضرور جھگڑا ہوتا تھا۔

سُمیرا بڑی ہُوئی تو اُس کی شادی ایک بنک مینجر کیساتھ ہو گئی اور وہ اُسکے ساتھ اسلام آباد جا کر رہنے لگی، آجکل سوسائٹی میں اچھی طرح نقل و حرکت کے لیے سُمیرا فضول خرچی کا سہارا لیکر کھڑی ہے اور اُسے مجبوراً خود بھی جاب کرنی پڑتی ہے اور ابھی کل ہی اُس نے اپنی کمپنی سے نئی گاڑی کے لیے لون لیا ہے۔

نمبر 9 تعلیم سکول کے باہر بھی ہے
پڑھنے کے لیے بچوں کو صرف سکول بھیجنا اور کھیلنے کے لیے باغ ایک عام طریقہ ہے لیکن اگر ہفتے میں ایک دن کوئی بڑا بچوں کو باغ لیجا کر باغ کے سارے پودوں سے آشنائی دے یا کسی اور جگہ جہاں اُنہیں دیکھنے اور سیکھنے کو ملے لیکر جائے یہ بہت ضروری ہے اس سے بچے آس پاس کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنا اور جاننا شروع کرتے ہیں جو بہتر مستقبل حاصل کرنے میں اُنکے کام آتا ہے۔

نمبر 10 سوشل نیٹ ورک
سوشل میڈیا یا نیٹ ورک ایک دُوسرے سے رابطہ رکھنے کا اور سیکھنے کا ایک ذرئیعہ ہے اور بچے کمپیوٹر سے بہت سی skills بہت جلدی سیکھ جاتے ہیں۔

بہت سے والدین بچوں کو کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ کو استعمال کرنے پر ملامت کرتے رہتے ہیں ایسے موقع پر والدین اگر تھوڑی توجہ دیں اور اُنہیں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ کو مثبت استعمال کرنا سیکھائیں تو بچے بہت سے ایسے کام سیکھیں گے جو مستقبل میں اُن کے ایسے مسائل حل کر دیں گے جن کی وجہ پیسہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں