چھوٹے بچوں کی حرکات و سکنات میں اُن کا بیان و کلام چُھپا ہوتا ہے

چھوٹے بچوں کی حرکات و سکنات میں اُن کا بیان و کلام چُھپا ہوتا ہے

کائنات کا رب اپنی کتاب قُرآن مجید میں فرماتا ہے “اُس نے انسان کو تخلیق کیا، اور اُسے بیان کرنا سیکھایا”, پیدا ہونے کے بعد چھوٹے بچے کلام کرنا نہیں جانتے کیونکہ اُنہیں زُبان کا استعمال سیکھنے میں وقت درکار ہوتا ہے مگر وہ اپنی ضروریات بیان کرنا جانتے ہیں اور سمجھدار ماں باپ بچوں کے بیان کو سمجھ لیتے ہیں اور جان جاتے ہیں کہ بچہ کس چیز کی تمنا کر رہا ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم بچوں کے ماہرین کے مطابق بچوں کی اپنی ضروریات بیان کرنے کے 3 مختلف طریقے سیکھیں گے جنہیں پڑھ کر آپ جان جائیں گے کہ ننھے بچے کلام سیکھنے سے پہلے اپنی ضروریات کیسے بیان کرتے ہیں۔

طریقہ نمبر 1
چھوٹے بچےخاص طور پر 6 ماہ سے چھوٹے عام طور پر اپنا بیان رونے اور چلانے سے شروع کرتے ہیں اور ایسے موقع پر والدین کا یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ بچہ کس مقصد کے لیے رو رہا ہے یا چلا رہا ہے ۔

بچے کی تقریباً تما م ضروریات کا محور اُس کی ماں ہوتی ہے اور ننھے بچے اس بات کو جانتے ہیں اس لیے جب وہ زیادہ دیر بستر پر تنہائی میں گُزارلیتے ہیں تو ماں کو بُلاتے ہیں ایسے موقع پر عام طور پر بچے وقفے وقفے سے ہلکی آواز میں روتے ہیں اور رونے کے درمیان 15 سے بیس سیکنڈ کا وقفہ دیتے ہیں مگر اگر ماں بچے کی پُکار نہ سُنے تو آہستہ آہستہ اُن کا رونا چلانے میں بدلتا جاتا ہے اور پھر مستقل ہوجاتا ہے اس لیے ماں کو چاہیے کہ بچے کی پہلی پُکار پر اُس کا جواب دے کیونکہ ننھے بچے ابھی صبر سے نا آشنا ہوتے ہیں اور اُن کےمستقل رونے سے کمزور اور چڑ چڑے ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

بچے عام طور پر بھوک کی شکائیت کرتے ہُوئے بھی روتے ہیں ، بھوک لگنے کی صورت میں بچہ آہستہ آواز سے رونا شروع کرتا ہے اور اگر اُس کی ضرورت کو پُورا نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ رونا تیز ہوتا جاتا ہے اور اگر ماں اُسے دودھ پلانے میں دیر کرے تو یہی رونا شدید ہوجاتا ہے اس لیے کوشیش کرنی چاہیے کہ بچے کو فوراً دودھ پلائیں اور انتظار نہ کروائیں۔

چھوٹے بچے عام طور پر درد اور تکلیف کی شکائیت میں بھی روتے ہیں اور اس صورت میں وہ مستقل اور مسلسل رونا شروع کردیتے ہیں جس سے ماں کو سمجھ جانا چاہیے کہ بچہ بھوکا نہیں ہے بلکے کسی تکلیف میں ہے ، ننھے لاڈلے جب بیماری کا شکار ہوتے ہیں تب بھی تکلیف سے مسلسل روتے ہیں اور بیماری سے کمزور ہوجانے کی وجہ سے اُن کی آواز نحیف ہوجاتی ہے ایسی صورت میں ماں کو چاہیے کے فوراً بچے پر توجہ دے۔

ننھے بچے کا بستر جب پیشاب کرنے سے یا پاخانہ کرنے سے گیلا ہوجائے تب بھی وہ ماں کو آواز دیتا ہے ایسی صورت میں بچہ منمناتی ہُوئی آواز سے رونا شروع کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بے سکونی میں ہے ۔

ننھے بچے بے نیندی کی شکائیت بھی رو کر ہی کرتے ہیں عام طور پر بچے کو جب نیند آرہی ہو اور سونے کے لیے اُسے مناسب ماحول اور آرام دہ بستر میسر نہ ہوتو وہ بے چین اور تیز آواز میں رونا شروع کردیتا ہے اور ماں جیسے ہی اُسے اپنے ساتھ چمٹا کر تھپکی لگاتی ہے تو اُس کا ہسٹریکل رونا بند ہوجاتا ہے۔

طریقہ نمبر 2 بچوں کی ڈکشنری
چھوٹے بچے جب 2 ماہ کی عُمر سے بڑے ہوتے ہیں تو زبان کو تالو سے لگا کر چند آوازیں نکالنا سیکھ لیتے ہیں جن میں “آہ ، اھی، نھی ، او، ہی” وغیرہ کی آوازیں شامل ہیں ، بچوں کی ان آوازوں پر ریسرچ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کی ان آوازوں کا کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا ہے جسے وہ بیان کر رہا ہوتا ہے۔
عام طور بچہ جب “نھی” کی آواز نکالتا ہے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ اُسے بھوک لگی ہوتی ہے اور وہ دُودھ کے لیے رونے سے پہلے ماں کو بُلاتا ہے، “اھی” کی آواز بچہ اُس وقت نکالتا ہے جب اُسے کے پیٹ میں ہوا بھری ہو اور وہ اُسے تنگ کرنا شروع کرتی ہے اور وہ ڈکار مارنا چاہتا ہے، اسی طرح “اوہ” کی آواز کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بچے کو نیند آئی ہے اور “ہی” کی آواز بچہ بے سکونی اور ماحول سے اُکتاہٹ کے نتیجے میں نکالتا ہے، ایسے موقع پر ماں کو چاہیے کہ بچے کا ڈائپر چیک کرے اور اُس کا ماحول بدلے۔

طریقہ نمبر 3 بچے کی جسمانی حرکات و سکنات کو سمجھنا
ننھے بچے اپنی حرکات و سکنات سے بھی اپنی بہت سی ضروریات بیان کر رہے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنا والدین کے لیے بہت ضروری ہے جیسے 2 مہینے سے چھوٹے بچے تکلیف کی صُورت میں اپنی کمر بستر سے اُٹھانے کی کوشیش کرتے ہیں اور 2 مہینے سے بڑے بچے اپنی کمر کو کمان کی طرح بستر سے اُٹھاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماحول سے اُکتاہٹ محسوس کر رہے ہیں، بچہ جب اپنی کمر دُودھ پینے کے بعد بستر سے اُٹھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس کا پیٹ بھر چُکا ہے اور وہ مزید دُودھ پینا نہیں چاہتا۔

ننھے بچے عام طور پر بھوک لگنے کی صورت میں اپنے دونوں ہاتھوں کی مُٹھیوں کو بھینچنا شروع کردیتے ہیں اور اگر ماں اس موقع پر اُن کا یہ بیان سمجھ نہ پائے تو پھر بچے کو اپنے ضرورت رو کر بیان کرنی پڑتی ہے اسی طرح اگر بچے کا پیٹ بھرا ہو اور اُسے بھوک محسوس نہ ہورہی ہو تو اُس کے ہاتھ کی مُٹھی کھلی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کے پیٹ میں جب ہوا بھرتی ہے اور وہ پیٹ میں درد محسوس کرنا شروع کرتا ہے تو وہ عام طور پر اپنی ٹانگیں بستر سے اُٹھاتا ہے اور جب بچہ ہاتھ اور پاؤں مار رہا ہوتو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کھیل رہا ہے کیونکہ وہ ایسا خوف محسوس کرنے کی صورت میں کرتا ہے اور ہاتھ پاؤں مار کر ماں کو تلاش کرتا ہے اور اگر ماں اُسے نہ ملے تو پھر بیچارے کو چلانا پڑتا ہے۔

جو والدین اپنے بچے کے بیان کو سمجھ جاتے ہیں اُنہیں بچے کی پرورش کرنے میں بہت آسانی ہوتی ہے اور ہمارا یہ سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ بچہ اپنا یہ بیان ماں کے پیٹ سے ہی سیکھ کرآتا ہے اور اللہ فرماتا ہے “اور تُم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں